نیویارک،2دسمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزیف فوٹیل نے کہا ہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے دورمیان جوہری پروگرام پر سمجھوتہ ہونے کے باوجود تہران کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل فوٹیل نے کہا کہ متنازع جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں سے معاہدہ کرنے کے باوجود ایران اپنی سابقہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔امریکی عہدیدار کا کہنا ہے سمجھوتہ طے پانے کے بعد ایران کو اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرت ہوئے مشرق وسطیٰ میں اپنی مداخلت ختم کرنا چاہیے تھی مگر ایسا نہیں ہوسکا۔ خیال رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ میں شامل کسی اہم عسکری عہدیدار کی جانب سے ایران سے سمجھوتے پر یہ سب جاندار تنقید ہے۔جنرل جوزیف فوٹیل کا کہنا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں مداخلت کے ساتھ ساتھ حزب اللہ جیسے جنگجو گروپوں کی مدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران سے اسلحہ کی بھاری کھیپ دھڑا دھڑ خطے کے عسکریت پسندوں کو مل رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایران سائبر جرائم کی بھی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں تک اسلحہ پہنچانے کے لیے ایران متعدد روٹس استعمال کرتا ہے۔ ایران سے متحدہ عرب امارات کے راستے اسلحہ سے لدے ٹرک یمن میں حوثی ملیشیا تک پہنچائے جاتے ہیں۔عالمی سلامتی کونسل بھی متعدد بارایران سے مشرق وسطیٰ میں عسکریت پسندوں کو اسلحہ کی سپلائی روکنے کا مطالبہ کرچکا ہے۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے بھی سلامتی کونسل پر زور دیا تھا کہ وہ ایرانی اسلحہ عسکریت پسند گروپوں تک پہنچانے پر تہران کے خلاف سخت اقدامات کرے۔